السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من إجابة من دعاه إلى طعام وإن لم يكن له سبب باب: جو شخص کھانے کی دعوت دے اس کی دعوت قبول کرنے کے مستحب ہونے کا بیان اگرچہ اس دعوت کا کوئی (خاص) سبب نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ السَّرِيُّ، نا ابْنُ أَبِي ⦗٤٤٦⦘ أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ: لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتْ بِهِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْ تَحْتَ يَدِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ أَوْ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟ " فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: " الطَّعَامُ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ: " قُومُوا " قَالَ: فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ، قَالَتْ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ " فَأَتَتْهُ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَأَدْمَتْهُ يَعْنِي الْإِدَامَ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ أَنْ يَقُولَ: ثُمَّ قَالَ: " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ: " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ..سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کی کمزور سی آواز سنی ہے جس سے میں نے پہچان لیا کہ آپ ﷺ بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جی ہاں، تو انہوں نے جَو کا آٹا نکالا، پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنا خمار نکالا، پھر اس کی روٹی پکا کر میرے ہاتھ کے نیچے چھپا دی اور پھر اس کا کچھ حصہ مجھے ویسے ہی دے کر رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیج دیا۔ راوی کہتے ہیں: جب میں وہ لے کر گیا تو رسول اللہ ﷺ مسجد میں لوگوں کے ساتھ موجود تھے، میں وہاں کھڑا رہا یا میں نے سلام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا کھانے کے لیے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”اٹھو۔“ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ چلے اور میں آپ ﷺ کے آگے آگے چل رہا تھا یہاں تک کہ میں نے آ کر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو خبر دے دی۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ام سلیم رضی اللہ عنہا! رسول اللہ ﷺ لوگوں کو لے کر آگئے ہیں اور ہمارے پاس ان کو کھلانے کے لیے کھانا بھی نہیں ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ جا کر نبی ﷺ سے ملے، پھر رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ دونوں گھر میں داخل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلیم! جو تمہارے پاس ہے لے آؤ۔“ تو وہ روٹیاں لے کر آگئیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو روٹیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دی گئیں اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے سالن والی تھیلی نچوڑ دی۔ پھر نبی ﷺ نے اس میں جو اللہ نے چاہا کیا، پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو اجازت دو۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے دس آدمیوں کو بلایا، انہوں نے سیر ہو کر کھایا اور چلے گئے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”دس آدمی اور بلاؤ۔“ انہوں نے بھی سیر ہو کر کھایا، اسی طرح تمام لوگوں نے سیر ہو کر کھانا کھایا اور لوگوں کی تعداد ستر یا اسی تھی۔