السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من إجابة من دعاه إلى طعام وإن لم يكن له سبب باب: جو شخص کھانے کی دعوت دے اس کی دعوت قبول کرنے کے مستحب ہونے کا بیان اگرچہ اس دعوت کا کوئی (خاص) سبب نہ ہو۔
حدیث نمبر: 14594
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ دَسَّتْ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَزَادَ فِيهِ قَالَ: ثُمَّ هَيَّأَهَا فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ پر پڑھا تو انہوں نے اس کی مثل حدیث کو پڑھا کہ اس نے میرے کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور کچھ مجھے ویسے دے دیا۔
(ب) سعد بن سعید، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں اور اس میں اضافہ ہے کہ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا اس کھانے کے پاس آئیں جب تمام لوگ کھا کر چلے گئے تو کھانا ویسے کا ویسا ہی تھا۔