السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من إجابة من دعاه إلى طعام وإن لم يكن له سبب باب: جو شخص کھانے کی دعوت دے اس کی دعوت قبول کرنے کے مستحب ہونے کا بیان اگرچہ اس دعوت کا کوئی (خاص) سبب نہ ہو۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أُهْدِيَ إِلِيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ ".امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے (بکری کا) ایک دست ہدیہ کیا جائے تو میں ضرور قبول کروں گا، اور اگر مجھے (بکری کے) ایک پائے (کی دعوت) پر بلایا جائے تو میں ضرور قبول کروں گا۔““
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ نا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَاشَانِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلِيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ " وَلَمْ يَذْكُرْ وَكِيعٌ قَوْلَهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدَانَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے پائے کھانے کی دعوت دی جائے تو میں قبول کروں گا اور اگر دستی یا بازو مجھے تحفے میں دیا جائے تو میں قبول کروں گا۔“ لیکن وکیع نے «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔