السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما جاء في تستير المنازل باب: گھروں میں پردے لٹکانے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: تَزَوَّجَ سَلْمَانُ إِلَى أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا قَالَ: يَا هَذِهِ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَوْصَانِي إِنْ قَضَى اللهُ لَكَ أَنْ تَزَوَّجَ فَيَكُونُ أَوَّلَ مَا يَجْتَمِعَانِ عَلَيْهِ طَاعَةٌ " فَقَالَتْ: إِنَّكَ جَلَسْتَ مَجْلِسَ الْمَرْءِ يُطَاعُ أَمْرُهُ فَقَالَ لَهَا: قُومِي نُصَلِّي وَنَدْعُو فَفَعَلَا فَرَأَى بَيْتًا مُسْتَتِرًا فَقَالَ: مَا بَالُ بَيْتِكُمْ مَحْمُومٌ أَوَ تَحَوَّلَتِ الْكَعْبَةُ فِي كِنْدَةَ؟ فَقَالُوا: لَيْسَ بِمَحْمُومٍ وَلَمْ تَتَحَوَّلِ الْكَعْبَةُ فِي كِنْدَةَ فَقَالَ: لَا أَدْخُلُهُ حَتَّى تُهْتَكَ كُلُّ سِتْرٍ إِلَّا سِتْرًا عَلَى الْبَابِ هَذَا مُنْقَطِعٌ وَرُوِّينَا فِي كَرَاهِيَةِ ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لِمَا فِيهِ مِنَ السَّرَفِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.ابن جریج کہتے ہیں: سلمان رضی اللہ عنہ نے ابو قرۃ کندی کے خاندان میں شادی کی۔ جب ان کے پاس گئے تو کہنے لگے: اے عورت! رسول اللہ ﷺ نے مجھے نصیحت کی تھی: ”اگر اللہ تیرے نصیب میں شادی کرے تو سب سے پہلی چیز جس پر تم دونوں کا اجتماع ہو وہ اطاعت ہے۔“ اس عورت نے کہا: آپ ایسے شخص کی جگہ بیٹھے ہیں جس کے حکم کی اطاعت کی جاتی ہے، تو وہ اس عورت سے کہنے لگے: اٹھو، ہم نماز پڑھیں اور دعا کریں۔ ان دونوں نے ایسا کیا۔ جب اس نے گھر کو پردوں سے ڈھکا ہوا دیکھا تو کہنے لگے: تمہارے گھر کو کیا ہوا، کیا اسے بخار ہے یا کعبہ کندہ میں آ گیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہ تو اسے بخار ہے اور نہ ہی کعبہ کندہ میں منتقل ہوا ہے، تو کہنے لگے: جب تک تمام پردے پھاڑ نہ دیے جائیں سوائے دروازے کے پردے کے، میں گھر میں داخل نہ ہوں گا۔
یہ روایت منقطع ہے، اور دوسری روایت میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس کی کراہت منقول ہے اور یہ فضول خرچی کے مشابہ ہے۔