السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما جاء في تستير المنازل باب: گھروں میں پردے لٹکانے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا بَحْرٌ، نا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: عَرَّسْتُ ابْنًا لِي فَدَعَوْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَعُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَلَمَّا وَقَفَا عَلَى الْبَابِ رَأَى عُبَيْدُ اللهِ الْبَيْتَ قَدْ سُتِرَ بِالدِّيبَاجِ فَرَجَعَ وَدَخَلَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَقَدْ مَقَتَنِي حِينَ انْصَرَفَ فَقُلْتُ: أَصْلَحَكَ اللهُ وَاللهِ إِنَّ ذَلِكَ لَشَيْءٌ مَا صَنَعْتُهُ وَمَا هُوَ إِلَّا شَيْءٌ صَنَعَتْهُ النِّسَاءُ وَغَلَبُونَا عَلَيْهِ قَالَ: فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا زَوَّجَ ابْنَهُ سَالِمًا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ عُرْسِهِ دَعَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ نَاسًا، فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى الْبَابِ رَأَى أَبُو ⦗٤٤٥⦘ أَيُّوبَ فِي الْبَيْتِ سِتْرًا مِنْ قَزٍّ فَقَالَ: لَقَدْ فَعَلْتُمُوهَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ سَتَرْتُمُ الْجُدُرَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَفِي غَيْرِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ قَالَ: دَعَا ابْنُ عُمَرَ أَبَا أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَرَأَى فِي الْبَيْتِ سِتْرًا عَلَى الْجِدَارِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: غَلَبَنَا عَلَيْهِ النِّسَاءُ، فَقَالَ: مَنْ كُنْتُ أَخْشَى عَلَيْهِ فَلَمْ أَكُنْ أَخْشَى عَلَيْكَ وَاللهِ لَا أَطْعَمُ لَكَ طَعَامًا فَرَجَعَ.ربیعہ بن عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے کی شادی پر قاسم بن محمد رحمہ اللہ اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ کو دعوت دی، جب وہ دونوں دروازے پر پہنچے تو عبیداللہ رحمہ اللہ نے گھر کے دروازے پر ریشمی پردے لٹکے ہوئے دیکھے تو واپس چلے گئے۔ لیکن قاسم بن محمد رحمہ اللہ گھر میں داخل ہو گئے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے واپس جا کر مجھے ناراض کیا ہے۔ میں نے کہا: اللہ آپ کی اصلاح کرے، اللہ کی قسم! میں نے یہ کام نہیں کیا، یہ کام تو عورتوں نے زبردستی کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹے سالم کی شادی کی تو انہوں نے لوگوں کو شادی کی دعوت دی جس میں ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے؛ جب ابوایوب رضی اللہ عنہ نے گھر کو ریشم کے پردوں سے مزین دیکھا تو گھر کے دروازے پر ٹھہر گئے اور فرمانے لگے: اے ابوعبدالرحمن! تم نے یہ کیا ہے کہ تم نے دیواروں پر پردے لٹکا رکھے ہیں! پھر چلے گئے۔ دوسری روایت میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ابوایوب رضی اللہ عنہ کو دعوت دی۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے گھر میں دیواروں پر لٹکے ہوئے پردے دیکھے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: عورتیں ہم پر غالب آگئیں، تو ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس چیز کا میں لوگوں پر خوف کھاتا تھا مجھے آپ سے ڈر نہیں تھا، اللہ کی قسم! میں آپ کا کھانا نہیں کھاؤں گا۔