السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: يجيب المدعو صائما كان أو مفطرا وما يفعل كل واحد منهما باب: مدعو (جسے بلایا گیا ہو) دعوت قبول کرے خواہ وہ روزے سے ہو یا روزے سے نہ ہو، اور ان میں سے ہر ایک کیا کرے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 14535
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، سَمِعَ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ، يَقُولُ: دَعَا أَبِي عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فَأَتَاهُ فَجَلَسَ وَوُضِعَ الطَّعَامُ فَمَدَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَدَهُ وَقَالَ: " خُذُوا بِسْمِ اللهِ " وَقَبَضَ عَبْدُ اللهِ يَدَهُ وَقَالَ: " إِنِّي صَائِمٌ ".حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ میرے والد نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دعوت دی تو وہ آئے اور بیٹھے، کھانا رکھا گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ کھانے میں رکھا اور فرمایا: ”«بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھ کر شروع کرو۔“ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا اور فرمایا: ”میں روزے سے ہوں۔“