السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: يجيب المدعو صائما كان أو مفطرا وما يفعل كل واحد منهما باب: مدعو (جسے بلایا گیا ہو) دعوت قبول کرے خواہ وہ روزے سے ہو یا روزے سے نہ ہو، اور ان میں سے ہر ایک کیا کرے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 14534
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ إِذَا دُعِيَ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ أَجَابَ صَائِمًا كَانَ أَوْ مُفْطِرًا فَإِنْ كَانَ صَائِمًا دَعَا وَبَرَّكَ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا أَكَلَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب شادی کے ولیمہ کی دعوت دی جائے تو روزے سے ہو یا بےروزہ، دعوت قبول کرے، اگر روزہ دار ہے تو برکت کی دعا کرے، اگر بےروزہ ہے تو کھانا کھائے۔“