السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: يجيب المدعو صائما كان أو مفطرا وما يفعل كل واحد منهما باب: مدعو (جسے بلایا گیا ہو) دعوت قبول کرے خواہ وہ روزے سے ہو یا روزے سے نہ ہو، اور ان میں سے ہر ایک کیا کرے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 14536
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَبَاهُ دَعَا نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْهُ فِيهِمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَحْسَبُهُ قَالَ: " فَبَارَكَ وَانْصَرَفَ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَيْنَا فِيمَا تَقَدَّمَ أَنَّهُ كَانَ صَائِمًا فَصَلَّى يَقُولُ: دَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ خَرَجَ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ایک گروہ کو دعوت دی۔ میرا خیال ہے ان میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی تھے، تو انہوں نے برکت کی دعا کی اور چلے گئے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پہلے روایتوں میں گزر گیا ہے کہ وہ روزے سے تھے، انہوں نے دعا کی اور چلے گئے۔