السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: يجيب المدعو صائما كان أو مفطرا وما يفعل كل واحد منهما باب: مدعو (جسے بلایا گیا ہو) دعوت قبول کرے خواہ وہ روزے سے ہو یا روزے سے نہ ہو، اور ان میں سے ہر ایک کیا کرے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 14533
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ يَعْنِي بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ فِي الْوَلِيمَةِ زَادَ: " فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَدْعُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، مالک نے جو نافع سے بیان کی ہے، وہ اس کے ہم معنی ہے، لیکن کچھ اضافہ ہے: ”اگر روزہ دار ہے تو دعا کرے اگر بےروزہ ہے تو کھانا کھائے۔“