السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: : المستحب إن وجد سعة أن يولم بشاة باب: اس بیان میں کہ اگر وسعت ہو تو مستحب یہ ہے کہ ایک بکری کا ولیمہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 14500
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ قَالَا: ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: ذُكِرَ تَزْوِيجُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا أَوْلَمَ بِشَاةٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی شادی کا تذکرہ ہوا تو وہ فرمانے لگے: جتنا ولیمہ نبی ﷺ نے ان کی شادی کے موقع پر کیا اتنا ولیمہ اپنی کسی دوسری بیوی سے شادی کے موقع پر نہ کیا، آپ ﷺ نے بکری سے ولیمہ کیا۔