السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: المتعة باب: متعہ (مطلقہ کو دیا جانے والا تحفہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 14496
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَّارِ الْكُوفِيُّ بِالْكُوفَةِ قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ عِنْدَ شُرَيْحٍ، فَقَالَ لَهُ شُرَيْحٌ: " مَتِّعْهَا "، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: إِنَّهُ " لَيْسَتْ لِي عَلَيْهِ مُتْعَةٌ إِنَّمَا قَالَ اللهُ: {وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ} [البقرة: ٢٤١] وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكِ ".حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: ”فائدہ پہنچاؤ۔“ تو عورت نے کہا: ”اس کے ذمہ فائدہ پہنچانا نہیں ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ﴾ [سورة البقرة: 241] یہ ان میں سے نہیں ہے۔