حدیث نمبر: 14491
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " لِكُلِّ مُطَلَّقَةٍ مُتْعَةٌ إِلَّا الَّتِي تُطَلَّقُ وَقَدْ فُرِضَ لَهَا الصَّدَاقُ وَلَمْ تُمَسَّ فَحَسْبُهَا نِصْفُ مَا فُرِضَ لَهَا " وَرُوِّينَا هَذَا الْقَوْلَ مِنَ التَّابِعِينَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَمُجَاهِدٍ وَالشَّعْبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہر مطلقہ عورت کو فائدہ پہنچایا جائے گا، لیکن وہ مطلقہ جس کا حق مہر مقرر ہے اور دخول نہیں ہوا، اس کا نصف حق مہر ادا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 14492
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَيْهَقِيُّ صَاحِبُ الْمَدْرَسَةِ بِنَيْسَابُورَ، أنبأ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقَرْمِيسِيُّ بِهَا ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِيَادٍ الطَّيَالِسِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: كَانَتِ الْخَثْعَمِيَّةُ تَحْتَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا أَنْ قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بُويِعَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ دَخَلَ عَلَيْهَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَقَالَتْ لَهُ: لِتَهْنِكَ الْخِلَافَةُ، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ: " أَظْهَرْتِ الشَّمَاتَةَ بِقَتْلِ عَلِيٍّ أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا "، فَتَلَفَّفَتْ فِي ثَوْبِهَا وَقَالَتْ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ هَذَا فَمَكَثَتْ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا وَتَحَوَّلَتْ فَبَعَثَ إِلَيْهَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بَقِيَّةً مِنْ صَدَاقِهَا وَبِمُتْعَةِ عِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَلَمَّا جَاءَهَا الرَّسُولُ وَرَأَتِ الْمَالَ قَالَتْ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ، فَأَخْبَرَ الرَّسُولُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَكَى وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " لَرَاجَعْتُهَا، وَقَدْ جَاءَ فِي مُتْعَةِ الْمَدْخُولِ بِهَا مَا.
حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خثعمیہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھی، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اس کے پاس آئے تو اس نے کہا: آپ کو خلافت مبارک ہو۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”تو نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قتل کی خوشی ظاہر کی ہے، تجھے تین طلاقیں ہیں۔“ اس نے کپڑے میں اپنا منہ چھپالیا اور کہنے لگی: میرا یہ ارادہ نہ تھا، وہ ٹھہری رہی، جب عدت ختم ہوگئی تو چلی گئی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اس کا باقی ماندہ حق مہر اور فائدہ کے لیے ۲۰ ہزار درہم دیے، جب آپ کا قاصد پہنچا اور اس نے مال دیکھا تو کہنے لگی کہ جدا ہونے والے محبوب کے مقابلے میں یہ مال بہت ہی کم ہے، تو قاصد نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بتایا تو وہ رو پڑے اور فرمایا: ”اگر میں نے اپنے باپ کو اپنے نانا یعنی نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ”جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہے جب تک وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے“ تو میں رجوع کرلیتا۔“
حدیث نمبر: 14493
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا طَلَّقَ حَفْصُ بْنُ الْمُغِيرَةِ امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِزَوْجِهَا: " مَتِّعْهَا " قَالَ: لَا أَجِدُ مَا أُمَتِّعُهَا، قَالَ: " فَإِنَّهُ لَا بُدَّ مِنَ الْمَتَاعِ " قَالَ: " مَتِّعْهَا وَلَوْ نِصْفِ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ " وَقِصَّتُهَا الْمَشْهُورَةُ فِي الْعِدَّةِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ مَدْخُولًا بِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حفص بن مغیرہ نے اپنی عورت فاطمہ کو طلاق دے دی۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی تو آپ ﷺ نے اس کے خاوند سے فرمایا: ”اس کو فائدہ دو۔“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں کہ میں اسے فائدہ پہنچاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”فائدہ ضرور دینا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فائدہ پہنچاؤ اگرچہ نصف صاع کھجور ہی کیوں نہ ہو۔“ یہ مشہور قصہ ہے کہ یہ مدخولہ تھی۔
حدیث نمبر: 14494
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: " لِكُلِّ مُطَلَّقَةٍ مُتْعَةٌ وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ وَرُوِّينَا هَذَا الْقَوْلَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ وَالْحَسَنِ وَالزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہر مطلقہ کو فائدہ پہنچانا ہے، ﴿وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ﴾ [سورة البقرة: 241] اور مطلقہ کو فائدہ پہنچانا ہے اچھائی کے ساتھ یہ کہ پرہیزگاروں پر فرض ہے۔
حدیث نمبر: 14495
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى شُرَيْحٍ تُخَاصِمُ زَوْجَهَا تَسْأَلُهُ الْمُتْعَةَ وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا قَالَ: فَقَرَأَ شُرَيْحٌ: {وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ} [البقرة: ٢٤١] فَقَالَ لَهُ: " مَتِّعْهَا " وَلَمْ يَقْضِ لَهَا وَرُوِّينَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ قَالَ لِرَجُلٍ فَارَقَ: لَا تَأْبَى أَنْ تَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ لَا تَأْبَى أَنْ تَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ عَنْ شُرَيْحٍ إِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُتَّقِينَ فَمَتِّعْ وَلَمْ يُجْبِرْهُ، وَرُوِّينَا عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ جَبَرَهُ عَلَى الْمُتْعَةِ فِي الْمُفَوَّضَةِ قَبْلَ الدُّخُولِ.
حافظ ثناء اللہ
حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت جس کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی، وہ اس سے فائدہ پہنچانے کا سوال کرتی تھی، مقدمہ قاضی شریح رحمہ اللہ کی عدالت میں آیا تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ﴾ [سورة البقرة: 241]، تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: فائدہ پہنچاؤ، اس کا فیصلہ نہ کیا۔
(ب) قاضی شریح رحمہ اللہ نے اس شخص سے کہا جس نے اپنی بیوی کو چھوڑا تھا کہ تو پرہیزگاروں اور نیکی کرنے والوں میں سے ہونے کا انکار نہ کر۔
(ج) شعبی رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اگر تو متقین میں سے ہے تو پھر اس کو فائدہ پہنچاؤ، لیکن زبردستی نہ کی۔ قاضی شریح رحمہ اللہ نے دخول سے پہلے طلاق یافتہ کو فائدہ پہنچانے میں زبردستی کی تھی۔
(ب) قاضی شریح رحمہ اللہ نے اس شخص سے کہا جس نے اپنی بیوی کو چھوڑا تھا کہ تو پرہیزگاروں اور نیکی کرنے والوں میں سے ہونے کا انکار نہ کر۔
(ج) شعبی رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اگر تو متقین میں سے ہے تو پھر اس کو فائدہ پہنچاؤ، لیکن زبردستی نہ کی۔ قاضی شریح رحمہ اللہ نے دخول سے پہلے طلاق یافتہ کو فائدہ پہنچانے میں زبردستی کی تھی۔
حدیث نمبر: 14496
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَّارِ الْكُوفِيُّ بِالْكُوفَةِ قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ عِنْدَ شُرَيْحٍ، فَقَالَ لَهُ شُرَيْحٌ: " مَتِّعْهَا "، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: إِنَّهُ " لَيْسَتْ لِي عَلَيْهِ مُتْعَةٌ إِنَّمَا قَالَ اللهُ: {وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ} [البقرة: ٢٤١] وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكِ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: ”فائدہ پہنچاؤ۔“ تو عورت نے کہا: ”اس کے ذمہ فائدہ پہنچانا نہیں ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ﴾ [سورة البقرة: 241] یہ ان میں سے نہیں ہے۔