السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: المتعة باب: متعہ (مطلقہ کو دیا جانے والا تحفہ) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى شُرَيْحٍ تُخَاصِمُ زَوْجَهَا تَسْأَلُهُ الْمُتْعَةَ وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا قَالَ: فَقَرَأَ شُرَيْحٌ: {وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ} [البقرة: ٢٤١] فَقَالَ لَهُ: " مَتِّعْهَا " وَلَمْ يَقْضِ لَهَا وَرُوِّينَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ قَالَ لِرَجُلٍ فَارَقَ: لَا تَأْبَى أَنْ تَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ لَا تَأْبَى أَنْ تَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ عَنْ شُرَيْحٍ إِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُتَّقِينَ فَمَتِّعْ وَلَمْ يُجْبِرْهُ، وَرُوِّينَا عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ جَبَرَهُ عَلَى الْمُتْعَةِ فِي الْمُفَوَّضَةِ قَبْلَ الدُّخُولِ.حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت جس کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی، وہ اس سے فائدہ پہنچانے کا سوال کرتی تھی، مقدمہ قاضی شریح رحمہ اللہ کی عدالت میں آیا تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ﴾ [سورة البقرة: 241]، تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: فائدہ پہنچاؤ، اس کا فیصلہ نہ کیا۔
(ب) قاضی شریح رحمہ اللہ نے اس شخص سے کہا جس نے اپنی بیوی کو چھوڑا تھا کہ تو پرہیزگاروں اور نیکی کرنے والوں میں سے ہونے کا انکار نہ کر۔
(ج) شعبی رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اگر تو متقین میں سے ہے تو پھر اس کو فائدہ پہنچاؤ، لیکن زبردستی نہ کی۔ قاضی شریح رحمہ اللہ نے دخول سے پہلے طلاق یافتہ کو فائدہ پہنچانے میں زبردستی کی تھی۔