السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: من قال من أغلق بابا أو أرخى سترا فقد وجب الصداق وما روي في معناه باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ”جس نے دروازہ بند کر لیا یا پردہ گرا دیا تو مہر واجب ہو گیا“ اور اس معنی میں وارد ہونے والی دیگر روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14489
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كَعْبٌ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَأُهْدِيَتْ إِلَيْهِ فَرَأَى بِكَشْحِهَا ⦗٤١٩⦘ وَضَحًا مِنْ بَيَاضٍ قَالَ: " ضُمِّي إِلَيْكِ ثِيَابَكِ وَالْحَقِي بِأَهْلِكِ وَأَلْحَقَ لَهَا مَهْرَهَا ".حافظ ثناء اللہ
زید بن کعب فرماتے ہیں کہ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو غفار کی ایک عورت سے شادی کی۔ وہ آپ ﷺ کی طرف بھیجی گئی (تحفہ میں دی گئی تھی)۔ آپ ﷺ نے اس کے پہلو میں سفیدی کے داغ دیکھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے کپڑے پہنو اور اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔“ اور آپ ﷺ نے اس کا حق مہر ادا کر دیا۔