السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: من قال من أغلق بابا أو أرخى سترا فقد وجب الصداق وما روي في معناه باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ”جس نے دروازہ بند کر لیا یا پردہ گرا دیا تو مہر واجب ہو گیا“ اور اس معنی میں وارد ہونے والی دیگر روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14490
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ غُصْنٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ غِفَارٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا وَجَدَ بِكَشْحِهَا بَيَاضًا فَقَالَ: " ضُمِّي إِلَيْكِ ثِيَابَكِ " وَلَمْ يَأْخُذْ مِمَّا آتَاهَا شَيْئًا هَذَا مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَلَى جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ كَمَا تَرَى قَالَ الْبُخَارِيُّ لَمْ يَصِحَّ حَدِيثُهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنو غفار کی ایک عورت سے شادی کی، جب آپ ﷺ اس پر داخل ہوئے تو اس کے پہلو پر سفیدی کے داغ دیکھے تو فرمایا: ”اپنے کپڑے پہنو اور اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔“ آپ ﷺ نے جو کچھ دیا تھا واپس نہ لیا۔