السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: من قال من أغلق بابا أو أرخى سترا فقد وجب الصداق وما روي في معناه باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ”جس نے دروازہ بند کر لیا یا پردہ گرا دیا تو مہر واجب ہو گیا“ اور اس معنی میں وارد ہونے والی دیگر روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14488
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ غِفَارٍ فَدَخَلَ بِهَا فَأَمَرَهَا فَنَزَعَتْ ثَوْبَهَا فَرَأَى بِهَا بَيَاضًا مِنْ بَرَصٍ عِنْدَ ثَدْيِهَا فَانْمَازَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ خُذِي ثَوْبَكِ فَأَصْبَحَ وَقَالَ لَهَا: " الْحَقِي بِأَهْلِكِ " فَأَكْمَلَ لَهَا صَدَاقَهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن زید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ غفار کی عورت سے شادی کی، جب آپ ﷺ داخل ہوئے تو کپڑے اتارنے کا حکم دیا، آپ ﷺ نے اس کے پستانوں کے قریب پھلبہری کے سفید نشان دیکھے تو رسول اللہ ﷺ گزر گئے اور فرمایا: ”اپنے کپڑے لے لو۔“ آپ ﷺ نے صبح کی اور فرمایا: ”اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔“ آپ ﷺ نے اس کا مکمل حق مہر ادا کیا۔