السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: من قال الذي بيده عقدة النكاح الزوج من باب عفو المهر باب: مہر معاف کرنے کے حوالے سے اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ”جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے“ اس سے مراد شوہر ہے۔
حدیث نمبر: 14453
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ وَأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُمْ قَالُوا: " الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ هُوَ الْوَلِيُّ " فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ " هُوَ الزَّوْجُ " فَرَجَعُوا عَنْ قَوْلِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ: " أَرَأَيْتُمْ إِنْ عَفَا الْوَلِيُّ وَأَبَتِ الْمَرْأَةُ مَا يُغْنِي عَفْوُ الْوَلِيِّ، أَوْ عَفَتْ هِيَ وَأَبَى الْوَلِيُّ مَا لِلْوَلِيِّ مِنْ ذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
ابوبشر، طاؤس رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ اور اہل مدینہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ﴿جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے﴾ [سورة البقرة: 237] وہ ولی ہے۔ کہتے ہیں: میں نے ان کو سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے قول کی خبر دی کہ وہ خاوند ہے تو انھوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا۔ جب سعید بن جبیر رحمہ اللہ آئے تو انھوں نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ولی حق مہر معاف کر دے اور عورت انکار کر دے تو ولی کا معاف کرنا کچھ کفایت کرے گا یا عورت معاف کرے اور ولی انکار کر دے تو ولی کا کوئی تعلق ہے؟