السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14388
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا ابن نُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْبَصِيرِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ: حَدِيثُ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " لَا مَهْرَ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " فَقَالَ سُفْيَانُ: دَاوُدُ مَا زَالَ هَذَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ قُلْتُ: إِنَّ شُعْبَةَ رَوَى عَنْهُ فَضَرَبَ جَبْهَتَهُ وَقَالَ: دَاوُدُ دَاوُدُ.حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ دس درہموں سے کم حق مہر نہیں ہے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: داؤد، داؤد؟ اور وہ اس کا انکار ہی کرتے رہے، میں نے کہا: شعبہ رحمہ اللہ ان سے نقل فرماتے ہیں، تو انہوں نے اپنی پیشانی پر مارا اور کہا: داؤد، داؤد؟