السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14387
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ رَوَوْا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فيه شَيْئًا لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ لَوْ لَمْ يُخَالِفْهُ غَيْرُهُ أَنَّهُ " لَا يَكُونُ مَهْرٌ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگوں نے اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک ایسی بات روایت کی ہے جس جیسی روایت ثابت نہیں ہوتی، خواہ کوئی دوسرا اس کی مخالفت نہ بھی کرے، کہ دس درہموں سے کم حق مہر نہیں ہے۔