السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14379
وَقَدْ قِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " مَا تَرَاضَى عَلَيْهِ الْأَهْلُونَ وَلَوْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ " أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُنِيرٍ الْمَطِيرِيُّ، ثنا الرَّمَادِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَهُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، فَذَكَرَهُ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ رَحِمَهُ اللهُ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ضَعِيفٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ ضَعِيفٌ وَالضَّعْفُ عَلَى حَدِيثِهِمَا بَيِّنٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ قَالَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ مِنْ مُزَكِّي الْأَخْبَارِ، وَلِلْحَدِيثِ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ آخَرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جتنے پر ان کے گھر والے راضی ہو جائیں، اگرچہ پیلو کے درخت کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔“
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ضعیف ہے اور محمد بن حارث بھی ضعیف ہے، اور ان دونوں کی حدیث پر ضعف واضح ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: یحییٰ بن معین اور دیگر ناقدینِ رجال نے بھی یہی کہا ہے، اور اس حدیث کا ایک شاہد دوسری سند سے بھی موجود ہے۔