السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14378
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْكِحُوا الْأَيَامَى " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْعَلَائِقُ؟ قَالَ: " مَا تَرَاضَى عَلَيْهِ أَهْلُوهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی عورتوں کی شادی کرو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! کتنے حق مہر کے عوض؟ فرمایا: ”جتنے پر ان کے گھر والے رضامند ہو جائیں۔“