السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ ⦗٣٨٦⦘ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كُنْتُ فِي الْقَوْمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّهَا وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ، فَقَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا ثُمَّ قَامَتِ الثَّالِثَةُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَاذْهَبْ فَاطْلُبْ "، فَذَهَبَ فَطَلَبَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا قَالَ: " اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " قَالَ: فَذَهَبَ فَطَلَبَ، فَقَالَ: لَمْ أَجِدْ شَيْئًا، قَالَ: " هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟ " قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا قَالَ: " اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "، لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.ابوحازم نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں لوگوں کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس تھا کہ ایک عورت کھڑی ہوئی، اس نے کہا: میں نے اپنے نفس کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، آپ ﷺ کی رائے کو ایک شخص نے دیکھا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا نکاح (اس سے) کر دیں، لیکن آپ ﷺ نے کچھ جواب نہ دیا، پھر عورت نے کھڑے ہو کر کہا: میں نے اپنے نفس کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، آپ ﷺ نے اس کو دیکھا، پھر اس شخص نے کہا: آپ میرا نکاح کر دیں، پھر تیسری مرتبہ وہ عورت کھڑی ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص سے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو۔“ لیکن تلاش کے باوجود اس کو کچھ نہ ملا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی تلاش کرو۔“ پھر وہ شخص گیا تو آکر کہنے لگا: مجھے کچھ بھی نہیں ملا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تجھے قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: فلاں فلاں سورت یاد ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جا میں نے تیرا نکاح اس قرآن کے عوض کر دیا جو تیرے پاس ہے۔“