السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟ " قَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا"، قَالَ: وَاللهِ مَا أَجِدُ شَيْئًا قَالَ: " الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟ " قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ. قَالَ: " وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ".سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس آکر ایک عورت نے اپنا نفس آپ ﷺ کے لیے ہبہ کردیا اور وہ بہت زیادہ دیر کھڑی رہی، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر آپ کو ضرورت نہیں ہے تو میرا نکاح (اس سے) کردیں،“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”حق مہر دینے کے لیے تیرے پاس کیا ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میری یہ چادر ہے۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو نے چادر دے دی تو تیرے پاس کچھ نہ بچے گا، کچھ اور تلاش کرو۔“ اس نے عرض کیا: ”میرے پاس کچھ نہیں ہے،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ملے۔“ تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے قرآن یاد ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”فلاں فلاں سورت یاد ہے،“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے اس قرآن کے عوض کردیا۔“ ابو حازم کی روایت میں ہے: ”اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔“