السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من القصد في الصداق باب: مہر میں میانہ روی اختیار کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ خُطِبَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لِي مَوْلَاةٌ: هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ فَاطِمَةَ تُخْطَبُ؟ قُلْتُ: لَا أَوْ نَعَمْ قَالَتْ: فَاخْطُبْهَا إِلَيْهِ قَالَ: قُلْتُ: وَهَلْ عِنْدِي شَيْءٌ أَخْطُبُهَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: فَوَاللهِ مَا زَالَتْ تُرَجِّينِي حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَكُنَّا نُجِلُّهُ وَنُعَظِّمُهُ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ أُلْجِمْتُ حَتَّى مَا اسْتَطَعْتُ الْكَلَامَ، قَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ؟ "، فَسَكَتُّ، فَقَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: " لَعَلَّكَ جِئْتَ تَخْطُبُ فَاطِمَةَ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تَسْتَحِلُّهَا بِهِ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " فَمَا فَعَلْتَ بِالدِّرْعِ الَّتِي كُنْتُ سَلَّحْتُكَهَا؟ "، قَالَ: عَلِيٌّ وَاللهِ إِنَّهَا لَدِرْعٌ حُطَمِيَّةٌ مَا ثَمَنُهَا إِلَّا أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ، قَالَ: " اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا وَابْعَثْ بِهَا إِلَيْهَا فَاسْتَحِلَّهَا بِهِ "، كَذَا فِي كِتَابِي " أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ "، وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فَقَالَ: " أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ ".مجاہد، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا گیا تو میری ایک لونڈی نے مجھ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ فاطمہ کو پیغامِ نکاح دیا گیا ہے؟ میں نے «نَعَمْ» ”ہاں“ یا «لَا» ”نہیں“ کہا تو وہ کہنے لگی: آپ بھی پیغامِ نکاح دیں، کہتے ہیں: میں نے کہا: میرے پاس کیا ہے کہ میں دے کر نکاح کروں؟ لیکن وہ مجھے ترغیب دیتی رہی یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کے پاس چلا گیا، اور میں آپ ﷺ کی تعظیم بہت زیادہ کرتا تھا جس کی وجہ سے آپ کے سامنے بیٹھ کر کلام نہ کر سکا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تجھے کوئی کام ہے؟“ میں خاموش رہا یہاں تک کہ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید آپ فاطمہ کو نکاح کا پیغام دینے آئے ہیں؟“ میں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ نے پوچھا: ”تیرے پاس کیا چیز ہے جس کے ذریعے تو اس کو اپنے لیے حلال کر سکے؟“ کہتے ہیں: میں نے کہا: کچھ بھی نہیں، اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ نے پوچھا: ”جو میں نے تجھے اسلحہ کے طور پر زرہ دی تھی وہ کدھر ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس زرہ کی قیمت صرف چار سو درہم ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے تیرا نکاح اس سے کر دیا ہے لیکن وہ زرہ ان کو دے کر اپنے لیے حلال کر لو۔“
(ب) اسی طرح میری کتاب میں ٤٠٠ درہم ہے اور ابن اسحاق کی روایت میں ٤ درہم ہے۔