حدیث نمبر: 14350
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، قَدْ سَمَّاهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ يَقُولُ: أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ وَذَكَرْتُ أَنَّهُ لَا شَيْءَ لِي ثُمَّ ذَكَرْتُ عَائِدَتَهُ وَصِلَتَهُ فَخَطَبْتُهَا فَقَالَ: " أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَهَا فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا؟ " قَالَ: هِيَ عِنْدِي قَالَ: " فَأَعْطِهَا إِيَّاهَا ".
حافظ ثناء اللہ

ابن ابی نجیح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے ایک شخص کا نام لیا، جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کوفہ میں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میرا ارادہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو ان کی بیٹی کے نکاح کا پیغام دوں، لیکن مجھے یاد آیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، لیکن پھر مجھے یاد آیا تو میں پلٹ کر آپ ﷺ سے ملا اور میں نے پیغامِ نکاح دے دیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”میں نے تجھے حطمیہ درع فلاں دن دی تھی وہ کہاں ہے؟“ کہتے ہیں: یہ میرے پاس ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس کو دے دو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14350
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»