السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من القصد في الصداق باب: مہر میں میانہ روی اختیار کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14348
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ أَبُو عَبْدِ اللهِ، بِالرِّيِّ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ مِنْ كِتَابِهِ الْعَتِيقِ، ثنا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أَيُّوبَ ⦗٣٨٣⦘ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ أَبِي الْعَجْفَاءِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا تُغَالُوا بِمَهْرِ النِّسَاءِ "، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يُغْلِي بِالْمَهْرِ حَتَّى يَقُولَ: وَكُلِّفْتُ فِيكِ عِلْقَ الْقِرْبَةِ يَتَّخِذُهُ ذَنْبًا.حافظ ثناء اللہ
ابن ابی عجفاء اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورتوں کو حق مہر زیادہ نہ دیا کرو۔“ انہوں نے حماد کی حدیث کے موافق ذکر کیا ہے کہ کوئی شخص حق مہر زیادہ دیتا ہے اور پھر وہ کہتا ہے: ”تیری وجہ سے میں تکلیف میں مبتلا کیا گیا ہوں جیسے لٹکا ہوا مشکیزہ جو ڈول بن گیا ہے۔“