السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من القصد في الصداق باب: مہر میں میانہ روی اختیار کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحَبِيبٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِيَّاكُمْ وَالْمُغَالَاةَ فِي مُهُورِ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ تَقْوَى عِنْدَ اللهِ أَوْ مَكْرُمَةً عِنْدَ النَّاسِ لَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَاكُمْ بِهَا، مَا نَكَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أَنْكَحَ وَاحِدَةً مِنْ بَنَاتِهِ بِأَكْثَرَ مِنِ اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةً وَهِيَ أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ وَثَمَانُونَ دِرْهَمًا، وَإِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُغَالِي بِمَهْرِ امْرَأَتِهِ حَتَّى تَبْقَى عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ فَيَقُولُ: لَقَدْ كُلِّفْتُ لَكَ عِلْقَ الْقِرْبَةِ " وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَفِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ: " اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةً وَنِصْفٌ "، فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا وَافَقَ رِوَايَةَ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم عورتوں کو زیادہ حق مہر دینے سے بچو۔ اگر یہ اللہ کے ہاں تقویٰ اور لوگوں کے نزدیک عزت والی بات ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اس کے زیادہ لائق تھے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج اور اپنی بیٹیوں کے نکاح کیے اور حق مہر صرف بارہ اوقیہ تھا اور یہ چار سو اسی درہم بنتے ہیں۔ ان میں سے کوئی اپنی بیوی کا حق مہر اتنا زیادہ کر دیتا ہے کہ وہ اپنے نفس کا بھی دشمن بن جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے تیری وجہ سے لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرح تکلیف اٹھائی ہے۔
(ب) ابن سیرین رحمہ اللہ نے بارہ اوقیہ اور نصف بیان کیا ہے، جو ابوسلمہ رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں اس کی موافقت میں۔