السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: العزل باب: عزل (دورانِ ہم بستری انزال باہر کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 14320
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ تَمَامٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: " مَا كَانَ ابْنُ آدَمَ لِيَقْتُلَ نَفْسًا قَضَى اللهُ خَلْقَهَا، حَرْثُكَ إِنْ شِئْتَ عَطَّشْتَهُ، وَإِنْ شِئْتَ سَقَيْتَهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمانے لگے: ابنِ آدم کے بس کی بات نہیں کہ وہ کسی ایسی جان کو قتل کرے جس کو اللہ پیدا کرنا چاہتے ہوں۔ وہ تیری کھیتی ہے، آپ چاہے پیاسی رکھیں یا سیراب کریں، آپ کی مرضی ہے۔