حدیث نمبر: 14319
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ثنا مَالِكٌ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَزِيَّةَ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَجَاءَ ابْنُ فَهْدٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّ عِنْدِي جَوَارٍ لَيْسَ نِسَائِي اللَّاتِي أُكِنُّ بِأَعْجَبَ إِلِيَّ مِنْهُنَّ، وَلَيْسَ كُلُّهُنَّ يُعْجِبُنِي أَنْ يَحْمِلْنَ مِنِّي أَفَأَعْزِلُ؟ فَقَالَ زَيْدٌ: أَفْتِهِ يَا حَجَّاجُ قَالَ: فَقُلْتُ غَفَرَ اللهُ لَكَ إِنَّمَا نَجْلِسُ إِلَيْكَ نَتَعَلَّمُ مِنْكَ، قَالَ: أَفْتِهِ قَالَ: قُلْتُ: " هُوَ حَرْثُكَ إِنْ شِئْتَ سَقَيْتَهُ وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَشْتَهُ "، قَالَ: وَكُنْتُ أَسْمَعُ ذَلِكَ مِنْ زَيْدٍ، فَقَالَ: " صَدَقَ ".
حافظ ثناء اللہ

حجاج بن عمرو بن غزیہ رضی اللہ عنہما، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ یمن سے ابن فہد آئے اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے کہ میرے پاس لونڈیاں ہیں، بیویاں نہیں، لیکن وہ مجھے پسند ہیں اور میں تمام لونڈیوں کے حاملہ ہو جانے کو بھی ناپسند کرتا ہوں، کیا میں عزل کروں؟ تو زید رضی اللہ عنہما نے کہا: اے حجاج! اس کو فتویٰ دو۔ حجاج کہنے لگے: اللہ آپ کو معاف فرمائے، ہم تو آپ کے پاس سیکھنے کے لیے بیٹھے ہیں، انہوں نے فرمایا: فتویٰ دو۔ حجاج کہتے ہیں: میں نے کہہ دیا: ﴿وہ آپ کی کھیتی ہے﴾ [سورة البقرة: 223]، چاہو تو سیراب کرو یا پیاسی رکھو۔ راوی کہتے ہیں: میں بھی زید رضی اللہ عنہما سے سن رہا تھا، انہوں نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14319
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 1266»