السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: العزل باب: عزل (دورانِ ہم بستری انزال باہر کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 14321
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الرَّزَّادِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: " اذْهَبُوا فَسَلُوا النَّاسَ ثُمَّ ائْتُونِي "، فَأَخْبِرُونِي فَسَأَلُوا فَأَخْبَرُوهُ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ} [المؤمنون: ١٣]، حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ ثُمَّ قَالَ: " كَيْفَ تَكُونُ مِنَ الْمَوْؤُدَةِ حَتَّى تَمُرَّ عَلَى هَذَا الْخَلْقِ ".حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عزل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: جاؤ لوگوں سے پوچھ کر مجھے بھی بتانا۔ انہوں نے سوال کیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ﴾ [سورة المؤمنون: 12] ”اور یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا۔“ یہاں تک کہ آیت سے فارغ ہوئے تو فرمانے لگے: یہ زندہ درگور کرنا کیسے ہو سکتا ہے جب تک کہ وہ پیدائش کے ان مراحل سے نہ گزر جائے؟