السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: أجل العنين باب: عنین (نامرد) کو دی جانے والی مہلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ لَكَ فِي امْرَأَةٍ لَا أَيِّمٌ وَلَا ذَاتُ زَوْجٍ، فَعَرَفَ مَا تَقُولُ فَأَتَى بِزَوْجِهَا فَإِذَا هُوَ سَيِّدُ قَوْمِهِ، فَقَالَ مَا تَقُولُ فِيمَا تَقُولُ هَذِهِ قَالَ: هُوَ مَا تَرَى عَلَيْهَا، قَالَ: شَيْءٌ غَيْرَ هَذَا قَالَ: لَا، قَالَ: وَلَا مِنْ آخِرِ السَّحَرِ؟ قَالَ: وَلَا مِنْ آخِرِ السَّحَرِ، قَالَ: " هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ، وَإِنِّي لَأَكْرَهُ أَنْ أُفَرِّقَ بَيْنَكُمَا ".ہانی بن ہانی کہتے ہیں ایک خوبصورت عورت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے امیر المؤمنین! آپ کا ایسی عورت کے بارے میں کیا خیال ہے جو نہ بیوہ ہے اور نہ ہی خاوند والی ہے؟ وہ پہچان گئے کہ وہ کیا کہہ رہی تھی، اس کا خاوند قوم کا سردار تھا، وہ بھی آگیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کیا کہتے ہیں اس کے بارے میں جو وہ کہہ رہی ہے؟ اس نے کہا: وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے کہا ہے، وہ کہنے لگا: اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز؟ تو کہنے لگے: نہیں، فرمانے لگے: اور نہ آخری رات کے وقت میں؟ انھوں نے کہا: نہ آخری رات میں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تو خود بھی ہلاک ہوا اور تو نے اس کو بھی ہلاک کیا، لیکن میں تمہارے درمیان تفریق کو ناپسند کرتا ہوں۔