السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: أجل العنين باب: عنین (نامرد) کو دی جانے والی مہلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا الرَّمَادِيُّ قَالَ: حَدَّثُونَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ قَالَ: قِيلَ لِسُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ: إِنَّ شُعْبَةَ يُخَالِفُكَ فِي حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ " فِي الْعِنِّينِ يُؤَجَّلُ سَنَةً "، وَتَرْوِيَانِ عَنِ الرُّكَيْنِ، تَقُولُ: أَنْتَ أَبُو النُّعْمَانِ وَهُوَ يَقُولُ: هُوَ أَبُو طَلْقٍ، فَضَحِكَ سُفْيَانُ ⦗٣٧٠⦘ وَقَالَ: كُنْتُ أَنَا، وَشُعْبَةُ عِنْدَ الرُّكَيْنِ فَمَرَّ ابْنٌ لِأَبِي النُّعْمَانِ يُقَالُ لَهُ أَبُو طَلْقٍ فَقَالَ الرُّكَيْنُ: سَمِعْتُ أَبَا أَبِي طَلْقٍ فَذَهَبَ عَلَى شُعْبَةَ أَبَا أَبِي طَلْقٍ فَقَالَ: أَبُو طَلْقٍ، وَرُوِّينَا هَذَا الْمَذْهَبُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ.یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان بن سعید رحمہ اللہ سے کہا گیا: شعبہ رحمہ اللہ آپ کی، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مخالفت کرتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، آپ دونوں رکین سے روایت کرتے ہیں، آپ کہتے ہیں: (راوی) ابو النعمان ہیں اور وہ کہتے ہیں: ابو طلق ہیں۔ تو سفیان رحمہ اللہ ہنس پڑے اور فرمایا: میں اور شعبہ رکین کے پاس تھے کہ ابو النعمان کا ایک بیٹا گزرا جسے ابو طلق کہا جاتا تھا، تو رکین نے کہا: میں نے ابو طلق کے والد سے سنا ہے، تو شعبہ سے ”ابو طلق کے والد“ (کے الفاظ) رہ گئے اور انہوں نے ابو طلق کہہ دیا۔
یہ مذہب ہمیں سعید بن مسیب، عطاء بن ابی رباح، حسن بصری اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ سے بھی روایت کیا گیا ہے۔