❮
❯
حدیث نمبر: 14299
وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، بِمَعْنَاهُ قَالَ: وَجَاءَ زَوْجُهَا يَتْلُوهَا مِنْ بَعْدِهَا شَيْخٌ عَلَى عَصًا، وَزَادَ: " وَاتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي " أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي سُنَنِ حَرْمَلَةَ: هَذَا الْحَدِيثُ لَوْ كَانَ يَثْبُتُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يَكُنْ فِيهِ خِلَافٌ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِأَنَّهُ قَدْ يَكُونُ أَصَابَهَا ثُمَّ بَلَغَ هَذَا السِّنَّ فَصَارَ لَا يُصِيبُهَا ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: مَعَ أَنَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ هَانِئَ بْنَ هَانِئٍ لَا يُعْرَفُ، وَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ مِمَّا لَا يُثْبِتُونَهُ لِجَهَالَتِهِمْ بِهَانِئِ بْنِ هَانِئٍ.
حافظ ثناء اللہ

شعبہ نے ابو اسحاق سے اسی معنی میں روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ اس کا خاوند اس کے پیچھے پیچھے آیا، وہ لاٹھی پر (ٹیک لگائے) ایک بوڑھا تھا، اور یہ اضافہ ہے: ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے سنن حرملہ میں فرمایا: اگر یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہو تو اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کوئی اختلاف نہیں ہے؛ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس نے مجامعت کی ہو، پھر اس عمر کو پہنچ کر مجامعت کے قابل نہ رہا ہو۔ پھر آگے کلام کرتے ہوئے فرمایا: اس کے ساتھ ساتھ وہ جانتے ہیں کہ ہانی بن ہانی معروف نہیں، اور محدثین کے نزدیک یہ حدیث ثابت نہیں؛ کیونکہ وہ ہانی بن ہانی کو نہیں جانتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14299
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»