السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: المعتقة يصيبها زوجها فادعت الجهالة باب: اس آزاد کی گئی لونڈی کا بیان جس سے اس کا شوہر ہم بستری کر لے اور وہ (لونڈی، اختیار کے مسئلے سے) لاعلمی کا دعویٰ کرے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ: فِيهَا قَوْلَانِ أَحَدُهُمَا تَحْلِفُ وَيَكُونُ لَهَا الْخِيَارُ وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا، وَالْقَوْلُ الْآخَرُ لَا خِيَارَ لَهَا.امام شافعی رحمہ اللہ نے (اپنے) قدیم (قول) میں فرمایا: ”اس (عورت) کے بارے میں دو قول ہیں: ان میں سے ایک یہ کہ وہ قسم کھائے گی اور اسے (نکاح فسخ کرنے کا) اختیار ہو گا، اور یہی ہمیں زیادہ پسند ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ اسے کوئی اختیار نہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ " أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ مَا لَمْ يَمَسَّهَا، فَإِنْ ⦗٣٦٨⦘ مَسَّهَا فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَهِلَتْ أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ فَإِنَّهَا تُتَّهَمُ، وَلَا تُصَدَّقُ بِمَا ادَّعَتْ مِنَ الْجَهَالَةِ، وَلَا خِيَارَ لَهَا بَعْدَ أَنْ يَمَسَّهَا " وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: " إِذَا وَقَعَ عَلَيْهَا وَلَمْ تَعْلَمْ فَلَهَا الْخِيَارُ إِذَا عَلِمَتْ " وَرَوَى الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَمَةِ تُعْتَقُ فَيَغْشَاهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تُخَيَّرَ قَالَ: " تُسْتَحْلَفُ أَنَّهَا لَمْ تَعْلَمْ أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ ثُمَّ تُخَيَّرُ بَعْدَ ذَلِكَ "، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایسی لونڈی جو غلام کے نکاح میں ہو، آزاد کر دی جائے تو خاوند کی مجامعت سے پہلے اس کو اختیار ہے، اگر خاوند نے مجامعت کر لی اور لونڈی نے جہالت کا دعویٰ کر دیا تو اس کو اختیار ہے، لیکن اس کو متہم کیا جائے گا اور جہالت کے دعویٰ کی تصدیق نہ کی جائے گی اور مجامعت کے بعد اس کو کوئی اختیار نہیں ہے۔
(ب) ابن جریج کی روایت جو عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے، جب غلام لونڈی پر واقع ہو گیا لیکن لونڈی کو علم نہ تھا، جب پتا چلا تب اس کو اختیار ہے۔
(ج) حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لونڈی کی آزادی کے بعد غلام خاوند نے مجامعت کر لی، اختیار دیے جانے سے پہلے، تو اس سے قسم لی جائے گی کہ اس کو معلوم نہ تھا، پھر اختیار دیا جائے گا۔