السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: المعتقة تختار الفراق ولم تمس فلا صداق لها باب: اس آزاد کی گئی لونڈی کا بیان جو علیحدگی اختیار کر لے درآں حالیکہ اسے چھوا (ہم بستری) نہ گیا ہو تو اس کے لیے کوئی مہر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 14288
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَمَةِ إِذَا أُعْتِقَتْ قَبْلَ أَنْ يُدْخَلَ بِهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا " فَلَا شَيْءَ لَهَا لَا يَجْتَمِعُ عَلَيْهِ أَنْ تَذْهَبَ نَفْسُهَا وَمَالُهُ "، وَاللهُ أَعْلَمُ وَبِهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب لونڈی کو دخول سے پہلے آزاد کر دیا جائے تو اس کو اختیار ہے، اس لونڈی کے لیے کچھ بھی نہیں ہے کہ وہ اس کے نفس اور مال کو جمع کرے۔