السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في وقت الخيار باب: (آزاد ہونے والی لونڈی کے لیے) اختیار کے وقت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14286
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَوْلَاةً لِبَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ يُقَالُ لَهَا زَبْرَاءُ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهِيَ أَمَةٌ نُوبِيَّةٌ فَأُعْتِقَتْ قَالَ: فَأَرْسَلَتْ إِلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْنِي فَقَالَتْ: " إِنِّي مُخْبِرَتُكِ خَبَرًا، وَلَا أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا إِنَّ أَمْرَكِ بِيَدِكِ مَا لَمْ يَمَسَّكِ زَوْجُكِ "، قَالَتْ: فَفَارَقْتُهُ ثَلَاثًا، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا جَامَعَهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا "، وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بنو عدی بن کعب کی لونڈی جس کو زبراء کہا جاتا تھا، وہ کہتی ہیں کہ وہ ایک غلام کے نکاح میں تھی، اسے آزادی مل گئی تو نبی ﷺ کی زوجہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے اس کو بلانے کے لیے بھیجا اور فرمایا: میں تجھے بتانے لگی ہوں اور مجھے پسند نہیں کہ آپ کچھ بھی کریں، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں رہے گا جب تک تیرے خاوند نے تجھ سے مجامعت نہ کر لی۔ کہتی ہیں: میں اس سے تین دن جدا رہی۔
(ب) ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب اس نے مجامعت کر لی تو پھر لونڈی کو اختیار نہ رہے گا۔