السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في وقت الخيار باب: (آزاد ہونے والی لونڈی کے لیے) اختیار کے وقت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14283
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ بَرِيرَةَ أُعْتِقَتْ وَهِيَ عِنْدَ مُغِيثٍ عَبْدٍ لِآلِ أَبِي أَحْمَدَ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهَا: " إِنْ قَرِبَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بریرہ کو آزادی ملی جب وہ مغیث کے نکاح میں تھیں، جو آلِ ابی احمد کے غلام تھے، تو بریرہ کو نبی ﷺ نے اختیار دے دیا اور فرمایا: ”اگر مغیث نے تیرے ساتھ مجامعت کر لی تو پھر تجھے کوئی اختیار نہیں ہے۔“