السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يورد ممرض على مصح فقد يجعل الله تعالى بمشيئته مخالطته إياه سببا لمرضه باب: اس بیان میں کہ کوئی بیمار (اونٹوں والا) کسی صحت مند (اونٹوں والے) کے پاس نہ آئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے اس بیمار کے اختلاط کو اس کی بیماری کا سبب بنا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14243
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ: " هَلْ تَكُونُ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " مَا أَلْوَانُهَا؟ " قَالَ: حُمْرٌ قَالَ: " هَلْ فِيهَا أَوْرَقُ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " بِمَ ذَاكَ؟ " قَالَ: ذَاكَ عِرْقٌ نَزَعَهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَعَلَّ ابْنَكَ نَزَعَهُ عِرْقٌ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا، اس نے کہا: میری بیوی نے سیاہ بچہ جنم دیا ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان کی رنگت کیا ہے؟“ اس نے کہا: سرخ، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ان میں خاکستری رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیوں؟“ اس نے کہا: شاید کسی رگ نے اس کو کھینچا ہو تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید اس کو کسی رگ نے کھینچا ہو۔“