حدیث نمبر: 14242
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَرَجَعَ بِالنَّاسِ مِنْ سَرْغَ فَلَقِيَهُ أُمَرَاؤُهُ عَلَى الْأَجْنَادِ فَلَقِيَهُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ ⦗٣٥٥⦘ الْجَرَّاحِ، وَأَصْحَابُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَقَدْ وَقَعَ الْوَجَعُ بِالشَّامِ، فَقَالَ عُمَرُ: اجْمَعْ لِيَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، فَجَمَعْتُهُمْ لَهُ فَاسْتَشَارَهُمْ فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ارْجِعْ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمْهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا هُوَ قَدَرُ اللهِ وَقَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ فَلَا تَرْجِعْ عَنْهُ فَأَمَرَهُمْ فَخَرَجُوا عَنْهُ ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِيَ الْأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ فَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلَافِهِمْ فَأَمَرَهُمْ فَخَرَجُوا عَنْهُ ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ فَاجْتَمَعَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَنْ يَرْجِعَ بِالنَّاسِ فَأَذَّنَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصَبِّحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبَحُوا عَلَيْهِ فَإِنِّي مَاضٍ لِمَا أَرَى فَانْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ فَامْضُوا لَهُ فَأَصْبَحَ قَالَ: فَرَكِبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: إِنِّي أَرْجِعُ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُخَالِفَهُ: أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللهِ؟ فَغَضِبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ: لَوْ غَيْرُكَ قَالَ هَذَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، نَعَمْ، أَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللهِ إِلَى قَدَرِ اللهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا هَبَطَ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ وَاحِدَةٌ جَدْبَةٌ وَالْأُخْرَى خَصِبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَى الْجَدْبَةَ رَعَاهَا بِقَدَرِ اللهِ، وَإِنْ رَعَى الْخَصْبَةَ رَعَاهَا بِقَدَرِ اللهِ؟ قَالَ: ثُمَّ خَلَا بِأَبِي عُبَيْدَةَ فَتَرَاجَعَا سَاعَةً، فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ فَجَاءَ وَالْقَوْمُ يَخْتَلِفُونَ فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي فِي هَذَا عِلْمًا، فَقَالَ عُمَرُ: مَا هُوَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّكُمُ الْفِرَارُ مِنْهُ "، فَحَمِدَ اللهَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَجَعَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجِعُوا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَا: إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا رَجَعَ مِنْ سَرْغَ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جب وہ شام کی جانب گئے تو لوگ سرغ سے واپس آرہے تھے، ان کے امراء سردار جو لشکروں پر مقرر تھے وہ بھی ملے۔ ابوعبیدہ بن جراح اور ان کے ساتھی بھی کہ شام میں بیماری پھیل گئی ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اولین کو جمع کرنے کا حکم دیا، میں نے سب کو جمع کردیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا۔ بعض نے کہا: وباء والی جگہ نہیں جانا چاہیے واپس پلٹ جاؤ۔ بعض نے کہا: اب کسی غرض سے وہاں جا رہے ہیں، واپس نہیں پلٹنا چاہیے، یہ اللہ کی تقدیر ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا تو حکم فرمایا، وہ چلے گئے، پھر کہا: انصار کو بلاؤ، میں نے ان کو بلایا، ان سے مشورہ طلب کیا تو وہ بھی مہاجرین کی طرح مختلف ہوگئے، بعض نے کچھ کہا اور بعض نے کچھ کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو بھی حکم دیا، وہ بھی چلے گئے۔ پھر کہا کہ فتح کے وقت ہجرت کرنے والے مہاجرین میں سے کوئی بزرگ ہو تو اس کو بلاؤ۔ میں نے ان کو بلایا تو ان کی رائے متفق تھی کہ واپس پلٹ جاؤ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کروا دیا کہ اپنی سواریوں پر رہنا، وہ اپنی سواریوں پر رہے۔ فرمانے لگے: جو میں کروں دیکھتے رہنا جس کا حکم دوں کردینا۔ وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی پھر سوار ہوئے، پھر لوگوں سے کہنے لگے میں واپس جا رہا ہوں تو ابوعبیدہ کہنے لگے اور وہ ان کی مخالفت کو بھی ناپسند کرتے تھے، کیا اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا اور فرمانے لگے: اگر تیرے علاوہ کوئی دوسرا ہوتا اے ابو عبیدہ! میں اللہ کی تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف بھاگ رہا ہوں، اگر دو وادیاں ہوں، ایک خشک سالی کا شکار اور دوسری سرسبز و شاداب، اگر اس نے خشک وادی میں اپنے جانور کو چھوڑا تو یہ بھی اللہ کی تقدیر ہے اور اگر وہ اپنے جانور سرسبز و شاداب وادی میں چھوڑے تو یہ بھی اللہ کی تقدیر ہے۔
کہتے ہیں: پھر ابوعبیدہ چلے گئے، واپسی کے تھوڑی دیر بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی آگئے، وہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے حاضر نہ تھے؟ وہ آئے تو لوگ اختلاف کر رہے تھے۔ فرمانے لگے: اس بارے میں میرے پاس علم ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جب تم کسی زمین میں وباء کا سنو تو وہاں مت جاؤ اور جب وباء پھیل جائے اور تم اس زمین میں ہو تو وہاں سے بھاگ کر نہ نکلو“ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور خود بھی واپس ہوئے اور لوگوں کو بھی لوٹنے کا حکم فرمایا۔
(ب) عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما دونوں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سرغ نامی جگہ سے واپس ہوئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14242
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5729۔ 5730۔ 6973»