السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب العيب في المنكوحة -- باب: ما يرد به النكاح من العيوب باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں منکوحہ (جس عورت سے نکاح کیا جائے) میں عیب پائے جانے کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: ان عیوب کا بیان جن کی وجہ سے نکاح کو رد کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14230
قَالَ: وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: " ذَلِكَ إِذَا دَخَلَ بِهَا قَالَ: وَإِنْ عَلِمَ بِذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ فَارَقَ بِغَيْرِ طَلَاقٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ کسی عورت سے نکاح کریں اور وہ عورت پھل بہری، دیوانگی، کوڑھ یا «قَرَن» والی ہو اور اس کے ساتھ دخول کر لیا تو شوہر چاہے رکھ لے یا طلاق دے دے، لیکن وکیع نے ثوری سے زیادہ بیان کیا ہے کہ اگر دخول نہ کیا تو دونوں کے درمیان تفریق کروا دی جائے، گویا کہ انہوں نے دخول کی وجہ سے اختیار کو بھی ختم کر دیا ہے۔