السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب العيب في المنكوحة -- باب: ما يرد به النكاح من العيوب باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں منکوحہ (جس عورت سے نکاح کیا جائے) میں عیب پائے جانے کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: ان عیوب کا بیان جن کی وجہ سے نکاح کو رد کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14229
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً وَبِهَا بَرَصٌ، أَوْ جُنُونٌ، أَوْ جُذَامٌ، أَوْ قَرْنٌ ⦗٣٥١⦘ فَزَوْجُهَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَمَسَّهَا إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ، فَإِنْ مَسَّهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور وہ پھلبہری، دیوانگی، کوڑھ والی یا قرن والی ہو تو خاوند کو اختیار ہے جب تک اس نے اس کے ساتھ مجامعت نہ کی ہو۔ اگر وہ چاہے تو اسے روک لے اور چاہے تو طلاق دے دے، اور اگر اس نے مجامعت کر لی تو اس کے عوض اسے حق مہر ادا کرنا ہو گا۔