کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں منکوحہ (جس عورت سے نکاح کیا جائے) میں عیب پائے جانے کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: ان عیوب کا بیان جن کی وجہ سے نکاح کو رد کیا جا سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو بُكَيْرٍ يَعْنِي النَّخَعِيَّ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ الطَّائِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَلَمَّا أُدْخِلَتْ رَأَى بِكَشْحِهَا وَضَحًا فَرَدَّهَا إِلَى أَهْلِهَا " وَقَالَ: " دَلَّسْتُمْ عَلَيَّ "،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو غفار کی ایک عورت سے شادی کی، جب وہ آپ پر داخل کی گئی تو اس کے پہلو پر برص کی بیماری تھی، تو آپ ﷺ نے اس کو واپس کر دیا اور فرمایا: ”تم نے میرے ساتھ دھوکا کیا ہے۔“
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو بُكَيْرٍ النَّخَعِيُّ وَاسْمُ أَبِي بُكَيْرٍ الْوَلِيدُ بْنُ بَكْرٍ، كُوفِيٌّ عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو غفار کی ایک عورت سے شادی کی۔
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيِّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ غُصْنٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَلَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ رَأَى بِكَشْحِهَا بَيَاضًا فَنَاءَ عَنْهَا وَقَالَ: أَرْخِي عَلَيْكِ "، فَخَلَّى سَبِيلَهَا، وَلَمْ يَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَجَمِيلُ بْنُ زَيْدٍ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَاضْطَرَبَ الرُّوَاةُ عَنْهُ لِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقِيلَ عَنْهُ هَكَذَا. وَكَذَلِكَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِمَعْنَاهُ. وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ. قَالَ: وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ كَعْبٍ، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ كَعْبِ بْنِ زَيْدٍ، أَوْ زَيْدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَمْ يَصِحَّ حَدِيثُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو غفار کی ایک عورت سے شادی کی، جب وہ آپ ﷺ پر داخل کی گئی تو آپ ﷺ نے اس کے پہلو پر سفیدی کے داغ دیکھے تو آپ ﷺ نے دور کر دیا اور فرمایا: ”اپنے اوپر پردہ لٹکا لو“ اور آپ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا، اس سے کچھ بھی نہ لیا۔
ابو احمد (ابن عدی) کہتے ہیں: جمیل بن زید اس حدیث کو بیان کرنے میں منفرد ہیں اور اس حدیث میں ان سے روایت کرنے والوں میں اضطراب ہے۔ ان سے اسی طرح (ابن عمر سے) بیان کیا گیا ہے، اور اسماعیل بن زکریا نے بھی جمیل بن زید سے، انہوں نے ابن عمر سے اسی مفہوم میں روایت کی ہے۔ اور ان سے سعید بن زید سے بھی بیان کیا گیا ہے جو نبی ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، اور ان سے عبداللہ بن کعب سے، اور کعب سے، اور کعب بن زید یا زید بن کعب سے بھی بیان کیا گیا ہے۔ امام بخاری کہتے ہیں: اس کی حدیث صحیح نہیں ہے۔
ابو احمد (ابن عدی) کہتے ہیں: جمیل بن زید اس حدیث کو بیان کرنے میں منفرد ہیں اور اس حدیث میں ان سے روایت کرنے والوں میں اضطراب ہے۔ ان سے اسی طرح (ابن عمر سے) بیان کیا گیا ہے، اور اسماعیل بن زکریا نے بھی جمیل بن زید سے، انہوں نے ابن عمر سے اسی مفہوم میں روایت کی ہے۔ اور ان سے سعید بن زید سے بھی بیان کیا گیا ہے جو نبی ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، اور ان سے عبداللہ بن کعب سے، اور کعب سے، اور کعب بن زید یا زید بن کعب سے بھی بیان کیا گیا ہے۔ امام بخاری کہتے ہیں: اس کی حدیث صحیح نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهَا جُنُونٌ، أَوْ جُذَامٌ، أَوْ بَرَصٌ فَمَسَّهَا فَلَهَا صَدَاقُهَا وَذَلِكَ لِزَوْجِهَا غُرْمٌ عَلَى وَلِيِّهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص کسی عورت سے شادی کرے اور وہ عورت مجنون، کوڑھ والی یا برص کی بیمار ہو، پھر اگر ہمبستری کر لی تو حقِ مہر ادا کرے اور شوہر اس عورت کے ولی پر چٹی ڈال سکتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " قَضَى أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ وَبِهَا شَيْءٌ مِنْ هَذَا الدَّاءِ فَلَمْ يَعْلَمْ حَتَّى مَسَّهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَيَغْرُمُ وَلِيُّهَا لِزَوْجِهَا مِثْلَ مَهْرِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ جس عورت کو ان بیماریوں میں سے کوئی بیماری ہو اور مرد جانتا نہ ہو لیکن ہمبستری کر لی، تو اس کے عوض اس کے لیے حق مہر ہے اور شوہر اس عورت کے ولی پر حق مہر کے برابر چٹی ڈال سکتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ وَبِهَا جُنُونٌ، أَوْ جُذَامٌ، أَوْ بَرَصٌ، أَوْ قَرْنٌ فَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الصَّدَاقُ بِمَسِّهِ إِيَّاهَا، وَهُوَ لَهُ عَلَى الْوَلِيِّ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے پاگل، کوڑھی اور پھلبہری والی یا قرن (شرمگاہ میں ہڈی یا گوشت کی رکاوٹ) والی عورت سے شادی کی، پھر اگر اس سے مجامعت کر لی تو حق مہر ادا کرنا ہے اور وہ اس کے ولی کے ذمہ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: " أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي بَيْعٍ وَلَا ⦗٣٥٠⦘ نِكَاحٍ إِلَّا أَنْ تُسَمَّى، فَإِنْ سُمِّيَ جَازَ: الْجُنُونُ، وَالْجُذَامُ، وَالْبَرَصُ، وَالْقَرْنُ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " إِلَّا أَنْ يَمَسَّ فَإِنْ مَسَّ فَقَدْ جَازَ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوالشعثاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چار چیزوں کو نکاح و بیع میں مجمل رکھنا جائز نہیں ہے، اگر تعیین کر دے تو ٹھیک ہے ورنہ درست نہیں، وہ چار چیزیں یہ ہیں: دیوانگی، کوڑھ، برص اور قرن۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: " أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي بَيْعٍ وَلَا نِكَاحٍ: الْمَجْنُونَةُ، وَالْمَجْذُومَةُ، وَالْبَرْصَاءُ، وَالْعَفْلَاءُ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چار چیزیں بیع و نکاح میں جائز نہیں ہیں: دیوانگی، کوڑھ والی، پھلبہری والی اور ایسی عورت جس کی شرمگاہ میں غدود ہوں۔
وَمِنْ قَوْلِ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي الشَّعْثَاءِ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، فَذَكَرَهُ وَزَادَ إِلَّا أَنْ يَمَسَّهُنَّ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً، اور اس میں یہ اضافہ ہے: ”مگر یہ کہ وہ ان سے مجامعت کر لے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: " أَرْبَعٌ لَا يَجُزْنَ فِي بَيْعٍ وَلَا نِكَاحٍ: الَمَجْنُونَةُ، وَالْمَجَذْومَةُ، وَالْبَرْصَاءُ، وَالْعَفْلَاءُ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ مَرْفُوعًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَرُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چار عیوب بیع و نکاح میں جائز نہیں ہیں: (۱) دیوانگی، (۲) کوڑھ، (۳) پھلبہری، (۴) ایسی عورت جس کی شرمگاہ میں غدود ہو۔
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً وَبِهَا بَرَصٌ، أَوْ جُنُونٌ، أَوْ جُذَامٌ، أَوْ قَرْنٌ ⦗٣٥١⦘ فَزَوْجُهَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَمَسَّهَا إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ، فَإِنْ مَسَّهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور وہ پھلبہری، دیوانگی، کوڑھ والی یا قرن والی ہو تو خاوند کو اختیار ہے جب تک اس نے اس کے ساتھ مجامعت نہ کی ہو۔ اگر وہ چاہے تو اسے روک لے اور چاہے تو طلاق دے دے، اور اگر اس نے مجامعت کر لی تو اس کے عوض اسے حق مہر ادا کرنا ہو گا۔
قَالَ: وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: " ذَلِكَ إِذَا دَخَلَ بِهَا قَالَ: وَإِنْ عَلِمَ بِذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ فَارَقَ بِغَيْرِ طَلَاقٍ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ (حکم) اس وقت ہے جب اس نے اس کے ساتھ دخول کر لیا ہو۔“ فرمایا: ”اور اگر اسے دخول سے پہلے اس (عیب) کا علم ہو جائے تو اگر چاہے تو اسے رکھ لے اور اگر چاہے تو طلاق کے بغیر اس سے جدا ہو جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهِ جُنُونٌ وَضَرَرٌ فَإِنَّهَا تَخْتَرْ فَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ وَإِنْ شَاءَتْ قَرَّتْ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس مرد نے کسی عورت سے شادی کی لیکن وہ مرد دیوانہ یا کسی دوسری بیماری میں مبتلا ہے تو اس عورت کو اختیار حاصل ہے، چاہے تو وہ اس مرد کے ساتھ رہے یا اس سے جدا ہو جائے۔