السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب العيب في المنكوحة -- باب: ما يرد به النكاح من العيوب باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں منکوحہ (جس عورت سے نکاح کیا جائے) میں عیب پائے جانے کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: ان عیوب کا بیان جن کی وجہ سے نکاح کو رد کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14224
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ وَبِهَا جُنُونٌ، أَوْ جُذَامٌ، أَوْ بَرَصٌ، أَوْ قَرْنٌ فَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الصَّدَاقُ بِمَسِّهِ إِيَّاهَا، وَهُوَ لَهُ عَلَى الْوَلِيِّ ".حافظ ثناء اللہ
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے پاگل، کوڑھی اور پھلبہری والی یا بغیر بال (زلف کا نہ ہونا) والی عورت سے شادی کی، پھر اگر اس سے مجامعت کر لی تو حق مہر ادا کرنا ہے اور وہ اس کے ولی کے ذمہ ہے۔