السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب العيب في المنكوحة -- باب: ما يرد به النكاح من العيوب باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں منکوحہ (جس عورت سے نکاح کیا جائے) میں عیب پائے جانے کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: ان عیوب کا بیان جن کی وجہ سے نکاح کو رد کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14223
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " قَضَى أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ وَبِهَا شَيْءٌ مِنْ هَذَا الدَّاءِ فَلَمْ يَعْلَمْ حَتَّى مَسَّهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَيَغْرُمُ وَلِيُّهَا لِزَوْجِهَا مِثْلَ مَهْرِهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ جس عورت کو ان بیماریوں میں سے کوئی بیماری ہو اور مرد جانتا نہ ہو لیکن ہمبستری کر لی، تو اس کے عوض اس کے لیے حق مہر ہے اور شوہر اس عورت کے ولی پر حق مہر کے برابر چٹی ڈال سکتا ہے۔