السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الاغتسال للجنابة والجمعة جميعا إذا نواهما معا باب: جنابت اور جمعہ دونوں کے لیے ایک ساتھ غسل کرنے کا بیان جب دونوں کی بیک وقت نیت کی جائے
حدیث نمبر: 1422
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى؛ فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " ⦗٤٤٦⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، آدمی کے لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی، جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہوئی کہ اس کو حاصل کر لے گا یا عورت کے لیے ہے کہ اس کو اپنا لے گا تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔“