السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من عقد النكاح مطلقا لا بشرط فيه فالنكاح ثابت وإن كانت نيتهما أو نية أحدهما التحليل باب: اس شخص کا بیان جس نے نکاح کا عقد مطلق کیا اور اس میں کوئی شرط نہ رکھی تو نکاح ثابت ہو جائے گا اگرچہ ان دونوں کی یا ان میں سے کسی ایک کی نیت حلالہ کرنے کی ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ امْرَأَةً طَلَّقَهَا زَوْجُهَا ثَلَاثًا، وَكَانَ مِسْكِينٌ أَعْرَابِيٌّ يَقْعُدُ بِبَابِ الْمَسْجِدِ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: هَلْ لَكَ فِي امْرَأَةٍ تَنْكِحُهَا فَتَبِيتُ مَعَهَا اللَّيْلَةَ، وَتُصْبِحُ فَتُفَارِقُهَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَكَانَ ذَلِكَ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: إِنَّكَ إِذَا أَصْبَحْتَ فَإِنَّهُمْ سَيَقُولُونَ لَكَ فَارِقْهَا فَلَا تَفْعَلْ ذَلِكَ، فَإِنِّي مُقِيمَةٌ لَكَ مَا تَرَى وَاذْهَبْ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَتْ أَتَوْهُ وَأَتَوْهَا، فَقَالَتْ: كَلِّمُوهُ فَأَنْتُمْ جِئْتُمْ بِهِ فَكَلِّمُوهُ فَأَبَى، فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " الزَمِ امْرَأَتَكَ فَإِنْ رَابُوكَ بِرِيبَةٍ فَأْتِنِي "، وَأَرْسَلَ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَشَتْ لِذَلِكَ فَنَكَّلَ بِهَا، ثُمَّ كَانَ يَغْدُو عَلَى عُمَرَ وَيَرُوحُ فِي حُلَّةٍ فَيَقُولُ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَاكَ يَا ذَا الرُّقْعَتَيْنِ حُلَّةً تَغْدُو فِيهَا وَتَرُوحُ "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَسَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مُسْنَدًا شَاذًّا مُتَّصِلًا عَنِ ابْنِ سِيرِينَ يُوصِلُهُ عَنْ عُمَرَ مِثْلَ هَذَا الْمَعْنَى.ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، وہ مسکین دیہاتی تھا، مسجد کے دروازے پر بیٹھا رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی: تو نے فلاں عورت سے شادی کے بعد ایک رات گزار کر اس کو جدا کر دیا؟ اس نے کہا: ہاں۔ وہ اسی طرح تھا کہ اس کی بیوی نے کہہ دیا: جب تو صبح کرے تو وہ کہہ دیں کہ تو اس کو جدا کر تو ایسا نہ کرنا۔ میں تیرے پاس ہی رہوں گی، تیرا کیا خیال ہے؟ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جا۔ جب عورت نے صبح کی تو اس کے ورثاء مسکین اعرابی کے پاس آئے تو وہ مسکین عورت کے پاس آیا۔ اس عورت نے کہا: تم اس مسکین سے بات کرو۔ تم مجھے اس کے پاس لے کر آئے تھے۔ انہوں نے بات کی، لیکن مسکین نے انکار کر دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا تو انہوں نے فرمایا: اپنی بیوی کو لازم پکڑو، اگر کوئی شک ہو تو میرے پاس آ جانا، پھر اس عورت کے پاس گیا جو اس کے لیے لائی گئی تھی۔ اس کو عبرتناک سزا دی۔ پھر وہ مسکین صبح و شام حلہ پہن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دربار میں آیا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ تمام تعریفیں اس ذات کی ہیں جس نے اے چیتھڑوں والے! تجھے حلہ پہنایا، جس میں تو صبح و شام کرتا ہے۔