السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من عقد النكاح مطلقا لا بشرط فيه فالنكاح ثابت وإن كانت نيتهما أو نية أحدهما التحليل باب: اس شخص کا بیان جس نے نکاح کا عقد مطلق کیا اور اس میں کوئی شرط نہ رکھی تو نکاح ثابت ہو جائے گا اگرچہ ان دونوں کی یا ان میں سے کسی ایک کی نیت حلالہ کرنے کی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " طَلَّقَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ امْرَأَةً لَهُ فَبَتَّهَا، فَمَرَّ بِشَيْخٍ وَابْنٍ لَهُ مِنَ الْأَعْرَابِ فِي السُّوقِ قَدِمَا لِتِجَارَةٍ لَهُمَا، فَقَالَ لِلْفَتَى: هَلْ فِيكَ مِنْ خَيْرٍ؟ ثُمَّ مَضَى عَنْهُ ثُمَّ كَرَّ عَلَيْهِ فَكَمِثْلِهَا، ثُمَّ مَضَى عَنْهُ ثُمَّ كَرَّ عَلَيْهِ فَكَمِثْلِهَا قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَأَرِنِي يَدَكَ فَانْطَلَقَ بِهِ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ وَأَمَرَهُ بِنِكَاحِهَا فَنَكَحَهَا فَبَاتَ مَعَهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ اسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ فَإِذَا هُوَ قَدْ وَلَّاهَا الدُّبُرَ، فَقَالَتْ وَاللهِ لَئِنْ طَلَّقَنِي لَا أَنْكِحُكَ أَبَدًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَاهُ فَقَالَ: " لَوْ نَكَحْتَهَا لَفَعَلْتَ بِكَ كَذَا وَكَذَا وَتَوَاعَدَهُ، وَدَعَا زَوْجَهَا فَقَالَ: " الزَمْهَا "، وَزَادَ فِيهِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فَقَالَ وَقَالَ: " وَإِنْ عَرَضَ لَكَ أَحَدٌ بِشَيْءٍ فَأَخْبِرْنِي بِهِ ".حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قریشی شخص نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دے دی تو وہ بازار میں ایک دیہاتی شیخ اور اس کے بیٹے کے پاس سے گزرا جو تجارت کی غرض سے بازار آئے تھے۔ پھر اس نے جوان سے کہا: کیا تیرے اندر بھلائی ہے؟ وہ ان کے پاس سے چلا گیا، پھر دوبارہ پلٹ کر آیا، اس نے ویسے ہی کہا، پھر وہ چلا گیا۔ اس نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: مجھے اپنا ہاتھ دکھاؤ۔ پھر وہ اس کے ساتھ گیا اور اسے خبر دی اور اس عورت سے نکاح کا حکم دیا۔ اس نے اس عورت کے ساتھ رات گزاری۔ جب اس نے صبح کی اور اجازت طلب کی تو اجازت مل گئی۔ پھر وہ اچانک اس سے پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا تو اس عورت نے کہا: اگر اب اس نے مجھے طلاق دی تو میں آئندہ کبھی بھی اس سے نکاح نہ کروں گی۔ اس بات کا تذکرہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ہوا تو انہوں نے اس کے خاوند کو بلایا اور فرمایا: اگر تو نے اس عورت سے نکاح کیا تو میں تیرے ساتھ اس طرح کروں گا اور اس کو ڈرایا اور فرمایا: اس کو لازم پکڑو اور دوسری جگہ ہے کہ فرمایا: اگر کوئی چیز آپ کے لیے پیش آئے تو مجھے خبر دینا۔