السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في نكاح المحلل باب: حلالہ کرنے والے کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ التُّجِيبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ وَقَدْ رَكِبَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: إِنِّي الْآنَ مُسْتَعْجِلٌ فَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَرْكَبَ خَلْفِي حَتَّى تَقْضِيَ حَاجَتَكَ، فَرَكِبَ خَلْفَهُ فَقَالَ: إِنَّ جَارًا لِي طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي غَضَبِهِ وَلَقِيَ شِدَّةً، فَأَرَدْتُ أَنْ أَحْتَسِبَ بِنَفْسِي وَمَالِي فَأَتَزَوَّجُهَا ثُمَّ أَبْتَنِي بِهَا ثُمَّ أُطَلِّقُهَا فَتَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: " لَا تَنْكِحْهَا إِلَّا نِكَاحَ رَغْبَةٍ ".ابومرزوق تجیبی فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں ان کے پاس آیا اور وہ سوار تھے، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے آپ سے کام ہے، آپ نے فرمایا: مجھے جلدی ہے، اگر آپ میرے پیچھے سوار ہو جائیں اور میں آپ کی ضرورت پوری کر دوں گا، وہ شخص آپ کے پیچھے سوار ہو گیا، اس نے کہا: میرے ہمسائے نے اپنی بیوی کو غصے میں طلاق دے دی ہے، اب وہ پریشان ہے، میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے نفس اور مال کو روکے رکھوں، پھر میں نے اس عورت سے شادی کر لی تاکہ وہ پہلے خاوند کے پاس واپس چلی جائے، تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: رغبت سے نکاح کرو، وگرنہ درست نہیں ہے۔