السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يخطب الرجل على خطبة أخيه إذا رضيت به المخطوبة أو رضي به أبو البكر حتى يأذن أو يترك باب: اس بیان میں کہ جب وہ عورت جسے پیغامِ نکاح دیا گیا ہو، یا کنواری لڑکی کا باپ پہلے شخص سے راضی ہو چکے ہوں تو کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے جب تک کہ پہلا شخص اجازت نہ دے دے یا وہ اسے چھوڑ نہ دے۔
حدیث نمبر: 14037
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَرَادَ أَنْ يَخْطُبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، وَكَانَ رَجُلٌ يَخْطُبُهَا، فَأَتَى الرَّجُلُ، فَقَالَ: تَخْطُبُ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ قَدْ تَرَكْتُهَا، فَقَالَ: قَدْ تَرَكْتَهَا وَلَا حَاجَةَ لَكَ بِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْطُبَهَا قَالَ: اخْطُبْهَا رَاشِدًا قَالَ: فَخَطَبَهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ فَتَرَكَهَا وَاللهُ أَعْلَمُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ابوجہل کی بیٹی کو پیغامِ نکاح دینے کا ارادہ کیا اور ایک شخص نے اس کو پیغامِ نکاح دیا ہوا تھا، تو وہ شخص آیا، کہنے لگا: ”کیا آپ ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دینا چاہتے ہیں؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”ہاں۔“ اس نے کہا کہ میں نے چھوڑ دیا ہے، تو پھر پوچھا: ”تو نے چھوڑ دیا، تجھے کوئی حاجت نہیں ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ فرمانے لگے: ”میں نکاح کا پیغام دینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔“ کہنے لگا کہ اب نکاح کا پیغام دینا درست ہے۔ کہتے ہیں: انھوں نے نکاح کا پیغام دیا، پھر جب ان کے لیے بات واضح ہوگئی تو چھوڑ دیا۔