السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من أباح الخطبة على خطبة أخيه إذا لم يوجد من المخطوبة ولا من أبي البكر رضى بالأول باب: اس شخص کا قول جس نے اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجنے کو اس وقت مباح قرار دیا ہے جب اس عورت کی طرف سے یا کنواری لڑکی کے باپ کی طرف سے پہلے شخص کے لیے رضامندی نہ پائی گئی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقِ زَوْجِهَا: " إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي " قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ أَخْبَرْتُهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ، وَأَبَا جَهْمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ، فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ انْكِحِي أُسَامَةَ " قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ، فَقَالَ: " انْكِحِي أُسَامَةَ " فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ.ابو سلمہ بن عبدالرحمن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو طلاق کی عدت میں فرمایا تھا: ”جب تو حلال ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ وہ فرماتی ہیں: جب میں حلال ہوئی تو میں نے آپ ﷺ کو خبر دی کہ مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام دیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”معاویہ کنگال آدمی ہے اور ابو جہم اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں رکھتا، تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لے۔“ وہ فرماتی ہیں: میں نے اس کو ناپسند کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسامہ سے نکاح کر لو۔“ میں نے نکاح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت ڈال دی اور میں رشک کی جانے لگی۔